سنن النسائي حدیث نمبر: 1288
Sunan an-Nasa'i 1288
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
51: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: ایک اور طرح کی صلاۃ (درود) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ , قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ , اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" , قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى: وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا بِهِ مِنْ كِتَابِهِ وَهَذَا خَطَأٌ.
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں ، صلاۃ ( درود ) کیسے بھیجیں ؟ آپ نے فرمایا : اس طرح کہو : «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ” اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ ( درود ) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے ، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے ، اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں ، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے “ ۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا : اور ہم لوگ «وعلينا معهم» ” اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی “ کہتے تھے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے ، اور یہ غلط ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1288]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی وجہ اگلی روایت میں امام نسائی خود بیان کر رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3370)، تفسیر الأحزاب 10 (4797)، الدعوات 32 (6357)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (406)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (976، 977، 978)، سنن الترمذی/الصلاة 234 (483)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 25 (904)، (تحفة الأشراف: 11113)، مسند احمد 4/241، 243، 244، سنن الدارمی/الصلاة 85 (1381) (صحیح)