سنن النسائي حدیث نمبر: 1274
Sunan an-Nasa'i 1274
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
37: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الإِشَارَةِ، بِأُصْبُعَيْنِ وَبِأَىِّ أُصْبُعٍ يُشِيرُ
باب: دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کی ممانعت اور کس انگلی سے اشارہ کرے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَنَا أَدْعُو بِأَصَابِعِي , فَقَالَ: " أَحِّدْ أَحِّدْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ، اور میں ( تشہد میں ) اپنی انگلیوں ۱؎ سے ( اشارہ کرتے ہوئے ) دعا کر رہا تھا ، تو آپ نے فرمایا : ” ایک سے ( اشارہ ) کرو ایک سے “ ، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1274]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں، دو انگلیوں سے اشارہ کرنے کا ذکر ہے اس لیے اسے اقل جمع یعنی دو پر محمول کیا جائے گا، یا یہ مانا جائے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1499) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 358 (1499)، (تحفة الأشراف: 3850) (صحیح)