📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل (كتاب السهو) 🏷️ باب: باب: بائیں (ہاتھ) کو گھٹنے پر رکھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 1271 Sunan an-Nasa'i 1271
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
35: بَابُ : بَسْطِ الْيُسْرَى عَلَى الرُّكْبَةِ
باب: بائیں (ہاتھ) کو گھٹنے پر رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا" , قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , وَزَادَ عَمْرٌو , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو كَذَلِكَ , وَيَتَحَامَلُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے ، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎ ۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے ( اس میں ) اضافہ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی ، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے ، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1271]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث کے اس ٹکڑے اور اس کو ہلاتے نہیں تھے کو بعض علماء نے شاذ قرار دیا ہے، اور بعض اس کا یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ کبھی بھی نہیں ہلاتے تھے، اور صرف اشارہ پر اکتفاء کرتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ صرف اشارہ کے عمل کو وائل رضی اللہ عنہ نے ہلاتے رہتے تھے سے تعبیر کر دیا ہے، اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم نے اصل حقیقت بیان کر دی ہے، یعنی اشارہ کرتے تھے ہلاتے نہیں تھے، ہمارے خیال میں: تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ اشارہ تو بلاتعیین وقت کرتے تھے، رہی ہلانے کی بات تو کبھی ہلاتے تھے اور کبھی نہیں ہلاتے تھے، جس نے جو دیکھا اسے بیان کر دیا، یا مطلب یہ ہے کہ اشارہ میں انگلی کا ہل جانا بالکل ممکن ہے اس کو وائل رضی اللہ عنہ نے ہلاتے تھے سے تعبیر کر دیا، اصل کام اشارہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة ولا يحركها
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (989) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 186 (989، 990)، مسند احمد 4/3، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1377)، (تحفة الأشراف: 5264) (شاذ) صرف ’’ولا یحرکھا‘‘ کا جملہ شاذ ہے۔
سنن النسائي • حدیث #1271
1269 1270 1271 1272 1273

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1270 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَر...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو آپ اپ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ