سنن النسائي حدیث نمبر: 1266
Sunan an-Nasa'i 1266
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
31: بَابُ : مَوْضِعِ الْمِرْفَقَيْنِ
باب: نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کہنیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: " قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ , فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ , فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ , فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى , وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ وَرَأَيْتُهُ يَقُولُ: هَكَذَا , وَأَشَارَ بِشْرٌ بِالسَّبَّابَةِ مِنَ الْيُمْنَى وَحَلَّقَ الْإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں ، تو ( میں نے دیکھا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہو گئے ، پھر اپنے دائیں ( ہاتھ ) سے اپنے بائیں ( ہاتھ ) کو پکڑا ، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا ، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا ، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا ، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ۱؎ ، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا ، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا ، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا ، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں ، اور حلقہ بنایا ، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا ۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1266]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنا سر اس طرح رکھا کہ دونوں ہاتھ دونوں کانوں کے بالمقابل ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 890 (صحیح)