سنن النسائي حدیث نمبر: 1257
Sunan an-Nasa'i 1257
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ صَلَّى خَمْسًا
باب: آدمی پانچ رکعتیں پڑھ لے تو کیا کرے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا , فَقِيلَ لَهُ , فَقَالَ: مَا فَعَلْتُ , قُلْتُ بِرَأْسِي: بَلَى , قَالَ: وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ , فَقُلْتُ: نَعَمْ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ , فَقَالُوا لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ , قَالَ: " لَا فَأَخْبَرُوهُ" فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ ( رکعت ) نماز پڑھی ، تو ان سے ( اس زیادتی کے بارے میں ) کہا گیا ، تو انہوں نے کہا : میں نے ( ایسا ) نہیں کیا ہے ، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : کیوں نہیں ؟ آپ نے ضرور کیا ہے ، انہوں نے کہا : اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور ! تو میں نے کہا : ہاں ( دیتا ہوں ) تو انہوں نے دو سجدے کیے ، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں ، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے ، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ، لوگوں نے آپ کو بتایا ( کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا ، اور دو سجدے کیے ، پھر فرمایا : ” میں انسان ہی ہوں ، میں ( بھی ) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1257]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1022) مختصراً، مسند احمد 1/438، 448، (تحفة الأشراف: 9409)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: 1259 (صحیح)