سنن النسائي حدیث نمبر: 1244
Sunan an-Nasa'i 1244
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
25: بَابُ : التَّحَرِّي
باب: (نماز شک ہونے کی صورت میں) تحری (صحیح بات جاننے کی کوشش) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُجَالِدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَزَادَ فِيهَا أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ , قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ , قَالَ: " وَمَا ذَاكَ" , فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي فَعَلَ , فَثَنَى رِجْلَهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ: " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ شَيْئًا , فَلْيَتَحَرَّ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ صَوَابٌ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، آپ نے اس میں کچھ بڑھا ، یا گھٹا دیا ، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا : اللہ کے نبی ! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” وہ کیا ہے ؟ “ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا ، قبلہ رخ ہوئے ، اور سہو کے دو سجدے کیے ، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ” اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا “ ، پھر فرمایا : ” میں انسان ہی تو ہوں ، جیسے تم بھولتے ہو ، میں بھی بھولتا ہوں ، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے ، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو ، پھر وہ سلام پھیرے ، پھر سہو کے دو سجدے کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1244]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1241 (صحیح)