سنن النسائي حدیث نمبر: 1237
Sunan an-Nasa'i 1237
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
23: بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي السَّجْدَتَيْنِ
باب: سجدہ سہو کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ کو سہو ہو گیا ، تو آپ نے دو سجدے ( سہو کے ) کیے ، پھر سلام پھیرا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1237]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لیے تھا، کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لیے سلام پھیرا) نماز میں رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے، ہاں ان سجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں تینوں احادیث ضعیف ہیں کما في التعلیقات السلفیۃ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 202 (1039)، سنن الترمذی/فیہ 174 (395)، (تحفة الأشراف: 10885)، مسند احمد 5/110 (صحیح)