سنن النسائي حدیث نمبر: 1202
Sunan an-Nasa'i 1202
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
11: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ يَمِينًا وَشِمَالاً
باب: نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1202]
💡 وضاحت:
۱؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 296 (الجمعة 60) (587)، (تحفة الأشراف: 6014)، مسند احمد 1/275، 304 (صحیح)