سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 724
Sunan Ibn Majah 724
کتاب #4: کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
5: بَابُ : فَضْلِ الأَذَانِ وَثَوَابِ الْمُؤَذِّنِينَ
باب: اذان کی فضیلت اور مؤذن کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَ صَوْتِهِ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے ، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے ، اور اذان سن کر نماز میں حاضر ہونے والے کے لیے پچیس ( ۲۵ ) نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اور دو نمازوں کے درمیان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 724]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 31 (515)، سنن النسائی/الأذان 14 (644)، (تحفة الأشراف: 15466، ومصباح الزجاجة: 269)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/429، 458) (حسن صحیح) (اس حدیث کو بوصیری نے زوائد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ ابوداود اور نسائی نے اسے مختصراً ذکر کیا ہے، نیز احمد اور ابن حبان نے بھی اس کی تخریج کی ہے، جب کہ ابو داود میں مکمل سیاق سے ہے، نسائی میں مختصراً ہے اس لئے یہ حدیث زوائد میں نہیں ہے)