سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 721
Sunan Ibn Majah 721
کتاب #4: کتاب: اذان کے احکام و مسائل اورسنن
4: بَابُ : مَا يُقَالُ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ
باب: مؤذن کی اذان کے جواب میں کیا کہا جائے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھی : «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ، وہ تن تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، میں اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں “ تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 721]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی صغیرہ گناہ اور کیا عجب ہے کہ اللہ جل جلالہ کبائر بخش دے، کیونکہ وہ أرحم الراحمین ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 42 (210)، سنن النسائی/الأذان 38 (680)، (تحفة الأشراف: 3877)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/181) (صحیح)