سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 659
Sunan Ibn Majah 659
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
136: . بَابُ : الْمَجِّ فِي الإِنَاءِ
باب: برتن میں کلی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِدَلْوٍ فَمَضْمَضَ مِنْهُ، فَمَجَّ فِيهِ مِسْكًا، أَوْ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ، وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کی خدمت میں ( پانی کا ) ڈول حاضر کیا گیا ، آپ نے اس میں سے پانی لے کر کلی کی ، پھر ڈول میں کلی کی جو کستوری کی طرح یا کستوری سے پاکیزہ تر تھی اور آپ نے ڈول سے باہر ناک صاف کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 659]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ السند منقطع: عبد الجبار لم يسمع من أبيه كما قال البخاري (جامع الترمذي: 1453) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 402
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11767، ومصباح الزجاجة: 249)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 316، 318) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے اس لئے کہ عبد الجبار بن وائل اور ان کے والد کے مابین انقطاع ہے، انہوں نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا ہے)