سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 637
Sunan Ibn Majah 637
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
121: . بَابُ : مَا لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا
باب: حائضہ عورت سے مرد کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافِهِ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَفِسْتِ"؟ قُلْتُ: وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، قَالَ: " ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ"، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ"، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ مَعَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی ، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں ، تو میں لحاف سے کھسک گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم کو حیض آ گیا ہے ؟ “ میں نے کہا : مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے “ ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ “ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 637]
💡 وضاحت:
۱؎: مساس، معانقہ، بوسہ وغیرہ سب درست ہے، ابوداؤد نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو کیا کرنا درست ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تہبند کے اوپر فائدہ اٹھانا، اور اس سے بھی بچنا افضل ہے“۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18241، ومصباح الزجاجة: 239)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض5 (298)، 21 (3225)، 22 (323)، صحیح مسلم/الحیض 2 (296)، سنن النسائی/الطہارة 179 (284) الحیض 10 (317)، مسند احمد (6/ 294، 300)، سنن الدارمی/الطہارة 107 (1084) (حسن)