سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 600
Sunan Ibn Majah 600
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
107: . بَابٌ في الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ
باب: مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ: " نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ"، فَقُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور آپ سے پوچھا کہ اگر عورت خواب میں ویسا ہی دیکھے جیسا مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، جب پانی ( منی ) دیکھے تو غسل کرے “ ، میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا : تم نے تو عورتوں کو رسوا کیا یعنی ان کی جگ ہنسائی کا سامان مہیا کرا دیا ، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا بھلا ہو ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو کس وجہ سے بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 600]
💡 وضاحت:
۱؎: تو معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش میں مرد اور عورت دونوں کا نطفہ شریک ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی بھی ثابت ہوئی تو خواب میں اس کی منی کا نکلنا کیا بعید ہے، جیسے مرد کی منی نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 50 (130)، الغسل 22 (282)، الأنبیاء 1 (3328)، الأدب 68 (6091)، 79 (6121)، صحیح مسلم/الحیض 7 (313)، سنن الترمذی/الطہارة 90 (122)، سنن النسائی/الطہارة 131 (197)، (تحفة الأشراف: 18264)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 21 (85)، مسند احمد (6/ 292، 302، 306) (صحیح)