سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 589
Sunan Ibn Majah 589
کتاب #-: کتاب: تیمم کے احکام و مسائل
101: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلاً وَاحِدًا
باب: ساری بیویوں سے ہمبستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا، " فَاغْتَسَلَ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے رات میں اپنی ساری بیویوں سے صحبت کے بعد ( ایک ہی ) غسل کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 589]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ باری کے خلاف نہیں ہے کیونکہ باری میں ایک عورت کے پاس رات کو صرف رہنا کافی ہے صحبت کرنا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ جب عورتوں سے صحبت کی تو یہ بھی باری کی طرح ہو گیا، اور بعضوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر باری واجب نہ تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ صالح بن أبي الأخضر: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1504) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں صالح بن أبی الأخضر ضعیف ہیں)