سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 548
Sunan Ibn Majah 548
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
84: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ
باب: موزوں پر مسح کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: " هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا : ” کچھ پانی ہے “ ؟ ، پھر آپ نے وضو کیا ، اور موزوں پر مسح کیا ، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 548]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عمر بن المثني: مستور (تقريب: 4962) ¤ وعطاء الخراساني لم يسمع من أنس رضي اللّٰه عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 1093، ومصباح الزجاجة: 227) (ضعیف) (عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں، اور عطاء خراسانی اور انس رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)