سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 541
Sunan Ibn Majah 541
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
83: بَابُ : الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ
باب: جماع والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: " نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ، وَفِيهِ أَيْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، آپ نے ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھائی ، جسے آپ اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا داہنا کنارا بائیں کندھے پر اور بایاں داہنے کندھے پر تھا ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے ، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا آپ ہمیں ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھا لیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، میں میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں ، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 541]
💡 وضاحت:
۱؎: ان روایتوں سے ثابت ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی کپڑا خاص نماز کے لئے نہیں رہتا تھا، بلکہ روز مرہ کے کپڑوں سے ہی نماز بھی ادا کر لیتے تھے، اس لئے بعض لوگوں نے جو سجادے، جوڑے اور کپڑے نماز کے لئے خاص کر لئے ہیں، یہ بدعات و محدثات میں داخل ہیں، پھر اگر کوئی ان کو چھو لے تو ہندؤوں کی طرح چھوت سمجھتے ہیں، اور بھوت کی طرح الگ رہتے ہیں، ان کو وسواس خناس نے مبہوت کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه الحسن بن يحيي (الخشني) اتفق الجمھور علي ضعفه“ يعني ضعفه الجمھور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10945، ومصباح الزجاجة: 222) (حسن) (اس حدیث کی سند میں حسن بن یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ میں ہے، صحیح ابی داود: /390)