سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 529
Sunan Ibn Majah 529
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
78: بَابُ : الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ
باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا"، ثُمَّ وَلَّى، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ، فَقَامَ: إِلَيَّ بِأَبِي وَأُمِّي، فَلَمْ يُؤَنِّبْ، وَلَمْ يَسُبَّ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لَا يُبَالُ فِيهِ، وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ، وَلِلصَّلَاةِ"، ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اس نے کہا : اے اللہ ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے ، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : ” تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی اللہ کی مغفرت ) کو تنگ کر دیا “ ، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا ، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا ، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد ( یہ قصہ بیان کر کے ) دیہاتی نے کہا : میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا ، نہ برا بھلا کہا ، صرف یہ فرمایا : ” یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا ، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 529]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15073)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 58 (219)، سنن ابی داود/الطہارة 138 (380)، سنن الترمذی/الطہارة 112 (147)، سنن النسائی/الطہارة 45 (53)، مسند احمد (2/503) (حسن صحیح)