سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 526
Sunan Ibn Majah 526
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
77: بَابُ : مَا جَاءَ فِي بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَطْعَمْ
باب: کھانا نہ کھانے والے بچے کے پیشاب کا حکم۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو السَّمْحِ ، قَالَ: كُنْتُ خَادِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَجِيءَ بِالْحَسَنِ أَوْ الْحُسَيْنِ، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ فَأَرَادُوا أَنْ يَغْسِلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُشَّهُ فَإِنَّهُ يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ".
ابوسمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا ، آپ کے پاس حسن یا حسین کو لایا گیا ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا ، لوگوں نے اسے دھونا چاہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر پانی چھڑک دو ، اس لیے کہ بچی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور بچے کے پیشاب پہ چھینٹا مارا جاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 526]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 137 (376)، سنن النسائی/الطہارة 190 (305)، (تحفة الأشراف: 12051، 12052) (صحیح)