سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 502
Sunan Ibn Majah 502
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
69: بَابُ : الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ
باب: بوسہ لے کر وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ"، قُلْتُ: مَا هِيَ إِلَّا أَنْتِ، فَضَحِكَتْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیا ، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا ، ( عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ) میں نے ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا : وہ آپ ہی رہی ہوں گی ! تو وہ ہنس پڑیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 502]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (179) ترمذي (86) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 69 (179)، سنن الترمذی/الطہارة 63 (86)، (تحفة الأشراف: 17371، ومصباح الزجاجة: 209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/207) (صحیح)