سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 497
Sunan Ibn Majah 497
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
67: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ هُبَيْرَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَتَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ، وَلَا تَوَضَّئُوا مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اونٹ کے گوشت سے وضو کر لیا کرو ، اور بکری کے گوشت سے وضو نہ کرو ، اور اونٹنی کے دودھ سے وضو کیا کرو ، اور بکری کے دودھ سے وضو نہ کرو ، بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھو ، اور اونٹ کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 497]
💡 وضاحت:
۱؎: آگ پر پکی دیگر چیزوں کے استعمال سے وضو ضروری نہیں ہے، لیکن اونٹ کے گوشت کا معاملہ جدا ہے، اسی لئے شریعت نے اس کو الگ ذکر کیا ہے، اب ہماری سمجھ میں اس کی مصلحت آئے یا نہ آئے ہمیں فرماں برداری کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ خالد بن يزيد بن عمر الفزاري مجهول الحال (تقريب: 1689) ¤ و الحديث السابق (الأصل: 495) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 395
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7416، ومصباح الزجاجة: 205) (ضعیف) (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز خالد بن یزید مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، اور حدیث کا دوسرا ٹکڑا وتوضئوا من ألبان الإبل ولا توضئوا من ألبان الغنم ضعیف اور منکر ہے، بقیہ حدیث یعنی پہلا اور آخری ٹکڑا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، یعنی اونٹ کے گوشت سے وضو اور بکری کے گوشت سے عدم وضو، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 177)