سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 461
Sunan Ibn Majah 461
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
58: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے بعد ستر پر چھینٹے مارنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ، قَالَ مَنْصُورٌ حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَ بِهِ فَرْجَهُ".
حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا ، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 461]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ ستر (شرمگاہ) پر پیشاب کا خطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہو جائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی ایک اچھی تدبیر ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو سکھایا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 64 (166)، سنن النسائی/الطہارة 102 (134)، (تحفة الأشراف: 3420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 410، 4/179، 212، 5/408، 409) (صحیح)