سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 458
Sunan Ibn Majah 458
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
56: بَابُ : مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ
باب: وضو میں دونوں پاؤں کے دھونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ ، قَالَتْ: أَتَانِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ تَعْنِي حَدِيثَهَا الَّذِي ذَكَرَتْ: أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّاسَ أَبَوْا إِلَّا الْغَسْلَ، وَلَا أَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا الْمَسْحَ.
ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے ، اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا ، اس سے وہ اپنی وہ حدیث مراد لے رہی تھیں جس میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، اور اپنے دونوں پیر دھوئے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لوگ پاؤں کے دھونے ہی پر مصر ہیں جب کہ میں قرآن کریم میں پاؤں کے صرف مسح کا حکم پاتا ہوں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 458]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ”ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا“ سے آخر تک محدثین کرام کے نزدیک منکر ہے، اس لئے اس کی بنیاد پر حدیث کے ضعف پر استدلال درست نہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما خود پیر دھونے پر عامل اور اس کے قائل تھے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن دون فقال ابن عباس فإنه منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن عقيل ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15844، ومصباح الزجاجة: 188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (حسن) (اس میں عباس کا اثر منکر ہے، اس کے راوی ابن عقیل کے حافظہ میں ضعف تھا، اور اس ٹکڑے کی روایت میں کسی نے ان کی متابعت نہیں کی ہے)۔