سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4319
Sunan Ibn Majah 4319
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا , فَقَالَتْ: يَا رَبِّ , أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا , فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ , وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ , فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا , وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا : اے میرے رب ! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھا لیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانسیں عطا کیں : ایک سانس سردی میں ، دوسری گرمی میں ، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے ، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4319]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12416)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 9 (536)، صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 7 (157)، سنن النسائی/المواقیت 4 (501)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 7 (29)، مسند احمد (2/229، 238، 256، 266، 248، 377، 393، 400، 411، 462)، سنن الدارمی/الصلاة 14 (1243)، الرقاق 119 (2888) (صحیح)