سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4311
Sunan Ibn Majah 4311
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
37: بَابُ : ذِكْرِ الشَّفَاعَةِ
باب: شفاعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ , عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى , أَتُرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ لَا , وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی ، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے ؟ نہیں ، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4311]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله لأنها
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8989، ومصباح الزجاجة: 1542) (ضعیف) (سند میں اضطراب کی وجہ سے یہ سیاق ضعیف ہے، اول حدیث خيرت بين الشفاعة دوسرے طریق سے صحیح ہے لیکن لأنها أعم الخ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3585 و السنة لابن أبی عاصم: 891)