سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4306
Sunan Ibn Majah 4306
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
36: بَابُ : ذِكْرِ الْحَوْضِ
باب: حوض کوثر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَسَلَّمَ عَلَى الْمَقْبَرَةِ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ , وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِكُمْ لَاحِقُونَ" , ثُمَّ قَالَ: " لَوَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا" , قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ: " أَنْتُمْ أَصْحَابِي , وَإِخْوَانِي , الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي , وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ مِنْ أُمَّتِكَ , قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ , بَيْنَ ظَهْرَانَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ , أَلَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهَا" , قَالُوا: بَلَى , قَالَ: " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا , مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَارِ الْوُضُوءِ" , قَالَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْض" , ثُمَّ قَالَ: " لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ , فَأُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمُّوا" , فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ وَلَمْ يَزَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ , فَأَقُولُ: " أَلَا سُحْقًا سُحْقًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے ، اور قبر والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا : «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله تعالى بكم لاحقون» ” اے مومن قوم کے گھر والو ! آپ پر سلامتی ہو ، ان شاءاللہ ہم آپ لوگوں سے جلد ہی ملنے والے ہیں “ ، پھر فرمایا : ” میری آرزو ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ فرمایا : ” تم سب میرے اصحاب ہو ، میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے ، اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کی امت میں سے جو لوگ ابھی نہیں آئے ہیں آپ ان کو کیسے پہچانیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا وہ آدمی جس کے گھوڑے سفید پیشانی ، اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں خالص کالے گھوڑوں کے بیچ میں ان کو نہیں پہچانے گا “ ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے اخوان قیامت کے دن وضو کے نشانات سے ( اسی طرح ) سفید پیشانی ، اور سفید ہاتھ پاؤں ہو کر آئیں گے “ ، پھر فرمایا : ” میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا کچھ لوگ میرے حوض سے بھولے بھٹکے اونٹ کی طرح ہانک دئیے جائیں گے ، میں انہیں پکاروں گا کہ ادھر آؤ ، تو کہا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے بعد دین کو بدل دیا ، اور وہ الٹے پاؤں لوٹ جائیں گے ، میں کہوں گا : خبردار ! دور ہٹو ، دور ہٹو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4306]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/300، 375) (صحیح)