سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4232
Sunan Ibn Majah 4232
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
27: بَابُ : الأَمَلِ وَالأَجَلِ
باب: انسان کی آرزو اور عمر کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ عِنْدَ قَفَاهُ" , وَبَسَطَ يَدَهُ أَمَامَهُ , ثُمَّ قَالَ: " وَثَمَّ أَمَلُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ابن آدم ( انسان ) ہے اور یہ اس کی موت ہے ، اس کی گردن کے پاس ، پھر اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا : ” اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4232]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ نے قد آدم تک اشارہ کیا کہ یہ آدمی ہے پھر ذرا کم کر کے بتلایا کہ یہ اس کی عمر ہے پھر اس سے بڑھا کر بتلایا کہ یہ آرزو ہے، یعنی اس کی عمر سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/صفة القیامة 22 (2334)، (تحفة الأشراف: 1079)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 4 (6418)، مسند احمد (3/123، 135، 142، 257) (صحیح)