سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4216
Sunan Ibn Majah 4216
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
24: بَابُ : الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى
باب: ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ" , قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ , فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ , قَالَ: " هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ , لَا إِثْمَ فِيهِ , وَلَا بَغْيَ , وَلَا غِلَّ , وَلَا حَسَدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر صاف دل ، زبان کا سچا “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں ، صاف دل کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو ، نہ بغاوت ، نہ کینہ اور نہ حسد “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4216]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8939، ومصباح الزجاجة: 1504) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 570)