سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4205
Sunan Ibn Majah 4205
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
21: بَابُ : الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ
باب: ریا اور شہرت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ , حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ , أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُولُ يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا وَثَنًا , وَلَكِنْ أَعْمَالًا لِغَيْرِ اللَّهِ وَشَهْوَةً خَفِيَّةً".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت کے بارے میں ڈر ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج ، چاند یا بتوں کی پوجا کریں گے ، بلکہ وہ غیر اللہ کے لیے عمل کریں گے ، اور دوسری چیز مخفی شہوت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4205]
💡 وضاحت:
۱؎: مخفی شہوت یہ ہے کہ آدمی ظاہر میں تو یہ کہے کہ اسے عورتوں کا بالکل خیال نہیں ہے، اور جب تنہائی میں عورت مل جائے تو اس سے حرام کا ارتکاب کرے، اور بعض نے کہا کہ شہوت خفیہ ہر اس گناہ کو شامل ہے جس کی دل میں آرزو ہو۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
عامر بن عبدالله: مجهول، رواد بن الجراح: صدوق اختلط بآخره فترك وفي حديثه عن الثوري ضعف شديد (تق:3101، 1958) الحسن بن ذكوان عنعن (د 11) وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4821، ومصباح الزجاجة: 1499)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/123، 124) (ضعیف) (سند میں عامر بن عبد اللہ مجہول ہیں، اور الحسن بن ذکوان مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)