📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل (كتاب الزهد) 🏷️ باب: باب: حلم اور بردباری کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4187 Sunan Ibn Majah 4187
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
18: بَابُ : الْحِلْمِ
باب: حلم اور بردباری کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عُمَارَةَ الْعَبْدِيِّ , حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ , قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " أَتَتْكُمْ وُفُودُ عَبْدِ الْقَيْسِ" , وَمَا يَرَى أَحَدٌ فِينَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءُوا فَنَزَلُوا , فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَقِيَ الْأَشَجُّ الْعَصَرِيُّ , فَجَاءَ بَعْدُ فَنَزَلَ مَنْزِلًا , فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ وَوَضَعَ ثِيَابَهُ جَانِبًا , ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَشَجُّ , إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمَ وَالتُّؤَدَةَ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ حَدَثَ لِي , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں ، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا ، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے ، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ، وہ بعد میں آئے ، ایک مقام پر اترے ، اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اشج ! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے : ایک تو حلم و بردباری ، دوسری طمانینت و سہولت ، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، یہ پیدائشی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4187]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حلم اور وقار انسان میں فطری ہوتا ہے، اسی طرح غصہ اور جلد بازی بھی پیدائشی فطری ہوتے ہیں، لیکن اگر آدمی محنت کرے اور نفس پر بار ڈالے تو بری صفات اور برے اخلاق دور ہو سکتے ہیں، یا کم ہو سکتے ہیں،محققین علماء کا یہی قول ہے، اور اگر برے اخلاق کا علاج ممکن نہ ہوتا تو تعلیم اخلاق،محنت و ریاضت اور مجاہدہ کا کچھ فائدہ ہی نہ ہوتا، لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ فطری عیوب بہت مشکل سے جاتے ہیں، یا کم ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو هارون عمارة بن جوين العبدي: متروك (تقدم:249)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4265، ومصباح الزجاجة: 1487) (ضعیف جدا) (سند میں عمارہ بن جوین متروک ہے)
سنن ابن ماجه • حدیث #4187
4185 4186 4187 4188 4189

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4186 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ...
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے غصے پر قابو پا...
#4188 حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ , حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ , حَد...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عصری رضی اللہ عنہ سے ف...
#4189 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی گھونٹ پینے ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ