سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4178
Sunan Ibn Majah 4178
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
16: بَابُ : الْبَرَاءَةِ مِنَ الْكِبْرِ وَالتَّوَاضُعِ
باب: تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُودُ الْمَرِيضَ , وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ , وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ , وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ , وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ , وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ , وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ , وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے ، جنازے کے پیچھے جاتے ، غلام کی دعوت قبول کر لیتے ، گدھے کی سواری کرتے ، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا ، آپ گدھے پر سوار تھے ، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی ، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4178]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف / تقدم:2296
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الجنائز 32 (1017)، (تحفة الأشراف: 1588) (ضعیف) (سند میں مسلم الاعور ضعیف ہیں)