سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4165
Sunan Ibn Majah 4165
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي شُرَحْبِيلَ , عَنْ حَبَّةَ , وَسَوَاءٍ ابْنَيْ خَالِدٍ , قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ , فَقَالَ: " لَا تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا , فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ , ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں ، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے ، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4165]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 527
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3292، ومصباح الزجاجة: 1477)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/469) (ضعیف) (سلام بن شرحبیل لین الحدیث ہیں)