سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4153
Sunan Ibn Majah 4153
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
11: بَابُ : ضِجَاعِ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ , حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ , قَالَ: فَجَلَسْتُ , فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارٌ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ , وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبهِ , وَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ , وَقَرَظٍ فِي نَاحِيَةٍ فِي الْغُرْفَةِ , وَإِذَا إِهَابٌ مُعَلَّقٌ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ , فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ" , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , وَمَالِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ , وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا أَرَى , وَذَلِكَ كِسْرَى وَقَيْصَرُ فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ , وَأَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ , قَالَ: " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ , أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟" , قُلْتُ: بَلَى.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں آ کر بیٹھ گیا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک تہہ بند پہنے ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ کوئی چیز آپ کے جسم پر نہیں ہے ، چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے تھے ، اور میں نے دیکھا کہ ایک صاع کے بقدر تھوڑا سا جو تھا ، کمرہ کے ایک کونے میں ببول کے پتے تھے ، اور ایک مشک لٹک رہی تھی ، میری آنکھیں بھر آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن خطاب : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ روؤں ، اس چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے ہیں ، یہ آپ کا اثاثہ ( پونجی ) ہے جس میں بس یہ یہ چیزیں نظر آ رہی ہیں ، اور وہ قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں آرام سے رہ رہے ہیں ، آپ تو اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کے برگزیدہ ہیں ، اور یہ آپ کی سارا اثاثہ ( پونجی ) ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے یہ سب کچھ آخرت میں ہو ، اور ان کے لیے دنیا میں “ ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4153]
💡 وضاحت:
۱؎: راضی ہوں، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کو تسلی اور تشفی ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10500) (حسن)