سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4132
Sunan Ibn Majah 4132
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
8: بَابٌ في الْمُكْثِرِينَ
باب: مالداروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا عِنْدِي ذَهَبًا , فَتَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ , وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ , إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي قَضَاءِ دَيْنٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن آئے تو میرے پاس اس میں سے کچھ باقی رہے ، سوائے اس کے جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4132]
💡 وضاحت:
۱؎: باقی سب فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دوں، مال کا جوڑ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت ناپسند تھا چنانچہ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے ہی لوگوں کی گردنوں پر سے پھاندتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال میرے پاس بھول کر رہ گیا تھا، وہ یاد آیا تو میں نے اس کے تقسیم کر دینے کے لیے اس قدر جلدی کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر سخاوت بھی عمدہ دلیل ہے کیونکہ غیر نبی میں ایسے سارے عمدہ اخلاق ہرگز جمع نہیں ہو سکتے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14343، ومصباح الزجاجة: 1466)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستقراض 3 (2389)، صحیح مسلم/الزکاة 8 (991)، مسند احمد (2/419، 454، 506) (حسن صحیح)