سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4125
Sunan Ibn Majah 4125
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
7: بَابُ : مُجَالَسَةِ الْفُقَرَاءِ
باب: فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَبُو يَحْيَى , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ , وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ: " أَبَا الْمَسَاكِينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسکینوں سے محبت کرتے تھے ، ان کے ساتھ بیٹھتے ، اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے ، اور وہ لوگ بھی ان سے باتیں کرتے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوالمساکین رکھی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4125]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3766) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 525
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12943) (ضعیف جدا) (سند میں اسماعیل بن ابراہیم ضعیف ہیں، ابراہیم المخزومی متروک)۔ یہ حدیث اس سند سے گرچہ ضعیف ہے، لیکن جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول صحیح بخاری میں ہے کہ جعفر مسکینوں اور فقیروں کے حق میں بہت اچھے تھے، وہ ہمیں اپنے گھر میں موجود کھانا کھلاتے تھے، حتی کہ کپّی نکال کر ہمارے پاس لاتے، جس میں کچھ نہ ہوتا، تو ہم اس کو پھاڑ کر چاٹ لیتے تھے۔ (صحیح البخاری/الأطعمة 32 (5432)۔