سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4119
Sunan Ibn Majah 4119
کتاب #38: کتاب: زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
4: بَابُ : مَنْ لاَ يُؤْبَهُ لَهُ
باب: جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا , ذُكِرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : ضرور ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4119]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15773، ومصباح الزجاجة: 1458)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/459) (صحیح) (سند میں سوید و شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1646)