سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4079
Sunan Ibn Majah 4079
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
33: بَابُ : فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَخُرُوجِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
باب: فتنہ دجال، عیسیٰ بن مریم اور یاجوج و ماجوج کے ظہور کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ فَيَخْرُجُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96 فَيَعُمُّونَ الْأَرْضَ , وَيَنْحَازُ مِنْهُمُ الْمُسْلِمُونَ , حَتَّى تَصِيرَ بَقِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ فِي مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ , وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ , حَتَّى أَنَّهُمْ لَيَمُرُّونَ بِالنَّهَرِ فَيَشْرَبُونَهُ , حَتَّى مَا يَذَرُونَ فِيهِ شَيْئًا , فَيَمُرُّ آخِرُهُمْ عَلَى أَثَرِهِمْ , فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: لَقَدْ كَانَ بِهَذَا الْمَكَانِ مَرَّةً مَاءٌ , وَيَظْهَرُونَ عَلَى الْأَرْضِ , فَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ , وَلَنُنَازِلَنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَهُزُّ حَرْبَتَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخَضَّبَةً بِالدَّمِ , فَيَقُولُونَ: قَدْ قَتَلْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ , فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ , إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دَوَابَّ كَنَغَفِ الْجَرَادِ , فَتَأْخُذُ بِأَعْنَاقِهِمْ فَيَمُوتُونَ مَوْتَ الْجَرَادِ , يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , فَيُصْبِحُ الْمُسْلِمُونَ لَا يَسْمَعُونَ لَهُمْ حِسًّا , فَيَقُولُونَ: مَنْ رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ وَيَنْظُرُ مَا فَعَلُوا , فَيَنْزِلُ مِنْهُمْ رَجُلٌ قَدْ وَطَّنَ نَفْسَهُ عَلَى أَنْ يَقْتُلُوهُ , فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى فَيُنَادِيهِمْ أَلَا أَبْشِرُوا فَقَدْ هَلَكَ عَدُوُّكُمْ , فَيَخْرُجُ النَّاسُ , وَيَخْلُونَ سَبِيلَ مَوَاشِيهِمْ فَمَا يَكُونُ لَهُمْ رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ , فَتَشْكَرُ عَلَيْهَا كَأَحْسَنِ مَا شَكِرَتْ مِنْ نَبَاتٍ أَصَابَتْهُ قَطُّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یاجوج و ماجوج کھول دئیے جائیں گے ، پھر وہ باہر آئیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «وهم من كل حدب ينسلون» ” یہ لوگ ہر اونچی زمین سے دوڑتے آئیں گے “ ( سورة الأنبياء : 96 ) پھر ساری زمین میں پھیل جائیں گے ، اور مسلمان ان سے علاحدہ رہیں گے ، یہاں تک کہ جو مسلمان باقی رہیں گے وہ اپنے شہروں اور قلعوں میں اپنے مویشیوں کو لے کر پناہ گزیں ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج نہر سے گزریں گے ، اس کا سارا پانی پی کر ختم کر دیں گے ، اس میں کچھ بھی نہ چھوڑیں گے ، جب ان کے پیچھے آنے والوں کا وہاں پر گزر ہو گا تو ان میں کا کوئی یہ کہے گا کہ کسی زمانہ میں یہاں پانی تھا ، اور وہ زمین پر غالب آ جائیں گے ، تو ان میں سے کوئی یہ کہے گا : ان اہل زمین سے تو ہم فارغ ہو گئے ، اب ہم آسمان والوں سے لڑیں گے ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک اپنا نیزہ آسمان کی طرف پھینکے گا ، وہ خون میں رنگا ہوا لوٹ کر گرے گا ، پس وہ کہیں گے : ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا ، خیر یہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ چند جانور بھیجے گا ، جو ٹڈی کے کیڑوں کی طرح ہوں گے ، جو ان کی گردنوں میں گھس جائیں گے ، یہ سب کے سب ٹڈیوں کی طرح مر جائیں گے ، ان میں سے ایک پر ایک پڑا ہو گا ، اور جب مسلمان اس دن صبح کو اٹھیں گے ، اور ان کی آہٹ نہیں سنیں گے تو کہیں گے : کوئی ایسا ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کے انہیں دیکھ کر آئے کہ یاجوج ماجوج کیا ہوئے ؟ چنانچہ مسلمانوں میں سے ایک شخص ( قلعہ سے ) ان کا حال جاننے کے لیے نیچے اترے گا ، اور دل میں خیال کرے گا کہ وہ مجھ کو ضرور مار ڈالیں گے ، خیر وہ انہیں مردہ پائے گا ، تو مسلمانوں کو پکار کر کہے گا : سنو ! خوش ہو جاؤ ! تمہارا دشمن ہلاک ہو گیا ، یہ سن کر لوگ نکلیں گے اور اپنے جانور چرنے کے لیے آزاد چھوڑیں گے ، اور ان کے گوشت کے سوا کوئی چیز انہیں کھانے کے لیے نہ ملے گی ، اس وجہ سے ان کا گوشت کھا کھا کر خوب موٹے تازے ہوں گے ، جس طرح کبھی گھاس کھا کر موٹے ہوئے تھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4079]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4299، ومصباح الزجاجة: 1439)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/77) (حسن صحیح)