سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 407
Sunan Ibn Majah 407
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
44: بَابُ : الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ وَالاِسْتِنْثَارِ
باب: ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ؟ قَالَ: " أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم مکمل طور پر وضو کرو ، اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرو ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 407]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 55 (142)، الصوم 27 (2366)، سنن الترمذی/الطہارة 30 (38)، الصوم 69 (788)، سنن النسائی/الطہارة 71 (87)، 92 (114)، (تحفة الأشراف: 11172)، وأخرجہ: مسند احمد (4/33)، سنن الدارمی/الطہارة 34 (732) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 448)