سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4061
Sunan Ibn Majah 4061
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
29: بَابُ : الْخُسُوفِ
باب: زمین کے دھنسنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ , فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُقْرِأُ عَليْكَ السَّلَامَ , قَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ , فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " يَكُونُ فِي أُمَّتِي أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ , وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا : فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے ، انہوں نے کہا : مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے ، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میری امت میں ( یا اس امت میں ) مسخ ( صورتوں کی تبدیلی ) ، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا “ ، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4061]
💡 وضاحت:
۱؎: جو تقدیر کے منکر ہیں، ان کا نام تقدیر کے انکار کی وجہ سے قدریہ پڑا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 7 (4613)، سنن الترمذی/القدر 16 (2152)، تحفة الأشراف: 7651)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/108، 136) (حسن) (سند میں ابو صخر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)