سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4022
Sunan Ibn Majah 4022
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
22: بَابُ : الْعُقُوبَاتِ
باب: سزاؤں کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ ثَوْبَانَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ , وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ , وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے ، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی ، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4022]
💡 وضاحت:
۱؎: چاہے جتنا کوشش اور محنت کرے،لیکن اس کو فراغت اور مالداری حاصل نہیں ہوتی، کبھی اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کی اولاد پر بھی کئی پشت تک اثر رہتا ہے، اللہ بچائے، بعضوں نے کہا: عمر بڑھنے سے یہی مراد ہے کہ اچھی شہرت ہو جاتی ہے گویا وہ مرنے کے بعد بھی زندہ ہے، یا روزی بڑھنا کیونکہ عمر پیدا ہوتے ہی معین ہو جاتی ہے، گھٹ بڑھ نہیں سکتی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن دون قوله وإن الرجل
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (90) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2093، ومصباح الزجاجة: 1416) (حسن) (یہ حدیث حسن ہے، آخری فقرہ: وإن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه ضعیف ہے، ضعف کا سبب عبداللہ بن أبی الجعد کا تفرد ہے، وہ مقبول عند المتابعہ ہیں، اور متابعت نہ ہونے کی وجہ سے یہ فقرہ ضعیف ہے)