سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4015
Sunan Ibn Majah 4015
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
21: بَابُ : قَوْلِهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ}
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الرُّعَيْنِيُّ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى نَتْرُكُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: " إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَنَا , قَالَ: " الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ , وَالْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ , وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ" , قَالَ زَيْدٌ: تَفْسِيرُ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ": إِذَا كَانَ الْعِلْمُ فِي الْفُسَّاقِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی ، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آ جائے گی ، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے “ ۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول : «والعلم في رذالتكم» کا مطلب یہ ہے کہ علم ( دین ) فاسقوں میں چلا جائے گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4015]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد لعنعنة مكحول
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1604، ومصباح الزجاجة: 1412)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/187) (ضعیف) (سند ضعیف ہے اس لئے کہ مکحول مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)