سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 4010
Sunan Ibn Majah 4010
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
20: بَابُ : الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ
باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرَةُ الْبَحْرِ , قَالَ: " أَلَا تُحَدِّثُونِي بِأَعَاجِيبِ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ" , قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ بِنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ رَهَابِينِهِمْ , تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ , فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ , فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا , ثُمَّ دَفَعَهَا , فَخَرَّتْ عَلَى رُكْبَتَيْهَا , فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا , فَلَمَّا ارْتَفَعَتْ , الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ , فَقَالَتْ: سَوْفَ تَعْلَمُ , يَا غُدَرُ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ , وَجَمَعَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ , وَتَكَلَّمَتِ الْأَيْدِي وَالْأَرْجُلُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ , فَسَوْفَ تَعْلَمُ كَيْفَ أَمْرِي وَأَمْرُكَ , عِنْدَهُ غَدًا , قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَتْ صَدَقَتْ , كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین ( یعنی مہاجرین حبشہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں ؟ “ ، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے ، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری ، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی ، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا ، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی : غدار ! ( دھوکا باز ) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہو گا ، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا ، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں ، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے : ” اس بڑھیا نے سچ کہا ، اس بڑھیا نے سچ کہا ، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا ، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4010]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن ¤ و للحديث شاھد ضعيف عند البيھقي (6/ 95) فيه عطاء بن السائب اختلط و في السندين إليه نظر أيضًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2779، ومصباح الزجاجة: 1410) (حسن) (سند کو بوصیری نے حسن کہا ہے)