📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الفتن) 🏷️ باب: باب: جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3989 Sunan Ibn Majah 3989
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
16: بَابُ : مَنْ تُرْجَى لَهُ السَّلاَمَةُ مِنَ الْفِتَنِ
باب: جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي , فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ , وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ , إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ , الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا , وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا , وَلَمْ يُعْرَفُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى , يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے ، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں ، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا ، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” معمولی ریاکاری بھی شرک ہے ، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی ، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا ، اللہ تعالیٰ ان نیک ، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا ، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے ، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں ، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ، ایسے لوگ ہر گرد آلود تاریک فتنے سے نکل جائیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3989]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف جدًا ¤ عيسي بن عبد الرحمٰن الزرقي: متروك (تقريب: 5306) ¤ ولبعض الحديث شواهد ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 518
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11305، ومصباح الزجاجة: 1402) (ضعیف) (سند میں عیسیٰ بن عبد الرحمن ضعیف و متروک راوی ہیں)
سنن ابن ماجه • حدیث #3989
3987 3988 3989 3990 3991

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3990 حدثنا هشام بن عمار حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي حدثنا زيد بن أسلم عن عبد الله بن عمر قال: قال ...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی مثال ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ