سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3964
Sunan Ibn Majah 3964
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
11: بَابُ : إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا
باب: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم بھڑ جائیں تو ان کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ , قَالَ: " إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں ، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے ( قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا ) مگر مقتول کا کیا گناہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3964]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/تحریم الدم 25 (4123)، (تحفة الأشراف: 8984، ومصباح الزجاجة: 1394)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/401، 403، 410، 418) (صحیح)