سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 393
Sunan Ibn Majah 393
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ مِنْ مَنَامِهِ هَلْ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا
باب: کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ: أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے ، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 393]
💡 وضاحت:
۱؎: دن کو سو کر اٹھے جب بھی یہی حکم ہے کہ دھوئے بغیر ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، اور یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی ہاتھ دھلنا فرض نہیں ہے، بلکہ اچھا اور مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطہارة 19 (24)، سنن النسائی/الغسل 29 (440)، (تحفة الأشراف: 13189)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 26 (162) ولیس عندہ ذکر العدد، صحیح مسلم/الطہارة 26 (278)، سنن ابی داود/الطہارة 49 (103)، موطا امام مالک/الطہارة 2 (9)، مسند احمد (2/241، 253، سنن الدارمی/الطہارة 78 (793) (صحیح)