سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3929
Sunan Ibn Majah 3929
کتاب #37: کتاب: فتنوں سے متعلق احکام و مسائل
1: بَابُ : الْكَفِّ عَمَّنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ
باب: کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ , قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا , إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ" , فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ , دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " هَلْ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: " اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ , فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ".
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے ، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا ، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لے جا کر قتل کر دو “ ، جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر واپس بلایا ، اور پوچھا : ” کیا تم «لا إله إلا الله» کہتے ہو “ ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں ، جب انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا تو اب ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہو گیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3929]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/تحریم 1 (3987)، (تحفة الأشراف: 1738، ومصباح الزجاجة: 1373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8)، سنن الدارمی/السیر 10 (2490) (صحیح)