سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3906
Sunan Ibn Majah 3906
کتاب #36: کتاب: خواب کی تعبیر سے متعلق احکام و مسائل
3: بَابُ : الرُّؤْيَا ثَلاَثٌ
باب: خواب کی تین قسمیں ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ , وَحَدِيثُ النَّفْسِ , وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ , فَإِنْ رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّ إِنْ شَاءَ , وَإِنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهَا عَلَى أَحَدٍ وَلْيَقُمْ يُصَلِّي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خواب تین طرح کا ہوتا ہے : ایک اللہ کی طرف سے خوشخبری ، دوسرے خیالی باتیں ، تیسرے شیطان کا ڈرانا ، پس جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اگر چاہے تو لوگوں سے بیان کر دے ، اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اس کو کسی سے بیان نہ کرے ، اور کھڑ ے ہو کر نماز پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3906]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایسے خواب کو نہیں بیان کرنا چاہیے جو شیطانی تخویفات اور نفسیاتی تلبیسات ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله فإذا رأى
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14493، ومصباح الزجاجة: 1366)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الرؤیا 1 (2270)، سنن الدارمی/الرؤیا 6 (2189) (صحیح) (سند میں ہوذہ بن خلیفہ صدوق راوی ہے، نیز حدیث کے طرق اور شواہد ہیں)