سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 390
Sunan Ibn Majah 390
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
39: بَابُ : الرَّجُلِ يَسْتَعِينُ عَلَى وُضُوئِهِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِ
باب: وضو میں کسی سے مدد لینے کا بیان جو اس پر پانی ڈالے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِيضَأَةٍ، فَقَالَ: " اسْكُبِي، فَسَكَبْتُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَذِرَاعَيْهِ، وَأَخَذَ مَاءً جَدِيدًا فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ، وَمُؤَخَّرَهُ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا".
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا برتن لے کر آئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی ڈالو “ ۱؎ ، میں نے پانی ڈالا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے اور نیا پانی لے کر سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا مسح کیا ، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 390]
💡 وضاحت:
۱؎: اوپر کی ان تینوں احادیث سے معلوم ہوا کہ وضو میں تعاون لینا درست ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن دون الماء الجديد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (128،130) ¤ ابن عقيل ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 50 (127)، سنن الترمذی/الطہارة 25 (33)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/الطہارة 24 (717) (حسن) (سند میں شریک القاضی سئ الحفظ ضعیف راوی ہیں، اس لئے مَائً جَدِيداً کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 117- 122)