سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3824
Sunan Ibn Majah 3824
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
59: بَابُ : مَا جَاءَ فِي «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ»
باب: لاحول ولا قوۃ إلا باللہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ: سَمِعَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ , أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" , قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «لا حول ولا قوة إلا بالله» ” گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے “ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا : ” عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے “ ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ضرور بتائیے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3824]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن قیس یہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 38 (4205)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء، والتوبة، و الاستغفار 13 (2704)، سنن ابی داود/الصلاة 361 (1526، 1527، 1528)، سنن الترمذی/الدعوات 3 (3374)، (تحفة الأشراف: 9017)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394، 399، 400، 402، 407، 417، 418) (صحیح)