سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3819
Sunan Ibn Majah 3819
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ , جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا , وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا , وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا ، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا ، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا ، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۔“ ۱؎ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3819]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے گناہ بخش دوں گا، اس حدیث میں موحد مسلمانوں کے لیے بڑی امید ہے کہ توحید کی برکت سے اللہ چاہے گا تو ان کے گناہوں کو چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں بخش دے گا، لیکن کسی کو اس مغفرت پر تکیہ نہ کرنا چاہئے، اس لئے کہ انجام حال معلوم نہیں، اور اللہ رب العزت کی جیسی رحمت وسیع ہے ویسے ہی اس کا عذاب بھی سخت ہے، پس ہمیشہ گناہوں سے ڈرتا اور بچتا رہے، توبہ اور استغفار کرتا رہے، اور شرک سے بچنے اور دور رہنے کا بڑا خیال رکھے کیونکہ شرک کے ساتھ بخشے جانے کی توقع نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1518) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 361 (1518)، (تحفة الأشراف: 6288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248) (ضعیف) (سند میں حکم بن مصعب مجہول راوی ہیں)