سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3802
Sunan Ibn Majah 3802
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
55: بَابُ : فَضْلِ الْحَامِدِينَ
باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا , طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ ذَا الَّذِي قَالَ هَذَا؟" , قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا , وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ , فَقَالَ: لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ , فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ".
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، ایک شخص نے ( «سمع الله لمن حمده» کے بعد ) «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ کلمہ کس نے کہا ؟ اس شخص نے عرض کیا : میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے ، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3802]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف لكن صح نحوه من حديث ابن عمر وأنس دون قوله فما نهنها ... م
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (933) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 512
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11765، ومصباح الزجاجة: 1328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/316، 318، 319) (ضعیف) (ابو سحاق سبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، او ر روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد الجبار بن وائل ثقہ راوی ہیں، لیکن اپنے والد سے ان کی روایت مرسل ہے، یہ حدیث ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، لیکن فما نهنهها شيء دون العرش ثابت نہیں)